اسم صفت اور موصوف کی تعریف، اقسام اور مثالیں

اردو گرائمر کی اس باب میں ہم اسم صفت اور موصوف کی تعریف، اقسام اور مثالیں تفصیل سے پڑھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسم صفت کی بنیادی اقسام مثالوں سے پڑھیں گے۔ اس باب کی تکمیل پر آپ اس قابل ہوجائے گے کہ آپ اردو جملوں میں اسم صفت کو پہچان سکے گےاور اس کا صحیح استعمال کریں گے۔ 

فہرست

Table of Contents
Ism Sift aur Mosoof
اسم صفت اور موصوف کی تعریف ،اقسام اور مثالیں

اسم صفت کی تعریف

اسم صفت سے مراد وہ الفاظ ہیں، جو کسی اسم کی حالت، کفیت، رنگ، مقدار، شکل یا کمیت کو ظاہر کریں۔ 

اسم صفت کی مثال

قابل لڑکا، شیریف انسان، تکونی پہاڑ، سُرخ مرچ، بڑا کمرہ 

اگر مندرجہ بالا الفاظ پر غور کیا جائے تو ان تمام الفاظ میں ہر اسم کے ساتھ ایک لفظ استعمال ہوچکا ہے جو مذکورہ اسم کی صفت بیان کرتا ہے۔ مثلاََ قابل، شریف، تکونی ، سُرخ اور بڑا وغیرہ۔

موصوف کی تعریف

جس شخص ، چیز یا جگہ کی صفت بیان ہوجائے اُسے موصوف کہلاتا ہے۔ مثلاََ درجہ بالا الفاظ میں لڑکا، انسان، پہاڑ، مرچ اور کمرہ موصوف کی مثالیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسم کی اقسام 

اسم صفت کی اقسام

اسم صف کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں۔

صفت ذاتی 

صفت نسبتی 

صفت عددی

صفت مقداری

صفت ضمیری

صفت ذاتی کی تعریف

صفت ذاتی وہ اسم ہے جو کسی اسم کی اندرونی حالت یا خصوصیت ظاہر کریں، اسم صفت ذاتی کہلاتا ہے۔

صفت ذاتی کی مثالیں

سبز جھنڈا، شریر لڑکا، چالاک لومڑی

اسم صفت ذاتی بنانےکا طریقہ

ا۔اسم صفت ذاتی دوسرے اسماء یا افعال سے بھی بنائی جاتی ہیں۔

مثلاََ کھیل سے کھلاڑی

ڈھال سے ڈھلوان

ب۔ اسم صفت ذاتی بعض اوقات دو الفاظ کی مرکب ہوتی ہے۔ مثلاََ ہنس مکھ

ج۔ فارسی زبان کی اکثر علامتیں عربی اور ہندی الفاظ کے ساتھ اسم صفت ذاتی کا کام دیتی ہے۔ مثلاََ ناشکرا، بے چین ، بے قرار وغیرہ

ہ۔عربی اور فارسی میں موجود اسم صفت ذاتی اکثر اردو میں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ مثلاََ دانا شخص، شریف انسان 

د۔ اسم صفت ذاتی میں بعض اوقات صفات میں زیادتی ، زور یا مبالغہ پیدا کرنے کے لئے چند الفاظ بڑھائے جاتے ہیں۔ مثلاََ بہت اچھا، گہرا تالاب، زیادہ سستا

اسم صفت نسبتی کی تعریف

اسم صفت نسبتی وہ الفاظ ہیں جو کسی دوسری چیز سے لگاو یا تعلق ظاہر کریں۔ مثلاََ عربی شخص، ہندوستانی لڑکا، ایرانی جراب، افغانی تربوز وغیرہ وغیرہ۔ 

اسم صفت نسبتی بنانے کا طریقہ

ا۔ جس کسی اسم صفت نسبتی کے آخر میں (ا،ہ یا ی) آجائے تو اُسے واو سے بدل کر ی بڑھا دیتے ہیں جیسے موسیٰ سے موسوی عیسیٰ سے عیسوی ، وغیرہ 

ب۔ بعض اوقات (ہ) کو حذف کیا جاسکتا ہےمثلاََ مکہ سے مکی مدینہ سے مدنی

ج۔ اسم صفت نسبتی کی آخر میں یائے معروف لگانے سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ جسے فارسی ، عربی ، ترکی ،ہندوستانی ، پاکستانی وغیرہ

د۔ بعض اوقات آخر میں “انہ” بڑھانے سے نسبت ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ جیسے غلامانہ، جاہلانہ

ہ۔ ہندی میں چند علامتیں بھی ہیں 

مثلاََ 

سا۔ چاند جیسا، آفتاب جیسا

کا۔ غضب کا

والا۔ڈھابے والا

 

اسم صفت عددی کی تعریف

اسم صفت عددی وہ اسم ہے جس میں کسی اسم کی تعداد یا مقدار معلوم ہو۔ 

مثلاََ چھے گھوڑے ، کل اثاثے، چند روپے ، دس لڑکے ، پانچ بندے وغیرہ وغیرہ

تعداد معین

جب تعداد معلوم ہو جیسے دس کیلے، پانچ روز، سات دن، گیارہ طلباء

تعداد معین کی قسمیں یہ  ہیں۔ 

تعداد معمولی جیسے ایک، دو ، تین ، چار ، پانچ وغیرہ 

تعداد ترتیبی جیسے پہلا، دوسرا، تیسرا ، چوتھا وغیرہ 

تعداد اضافی جیسے دوہرا، تہرا، چوہرا وغیرہ 

کسری اعداد : یہ اسم صفت عددی بہت بے قاعدہ قاعدہ ہیں۔ جیسے پاو، چوتھائی، پونے، آدھا، ساڑھے، تہائی، ڈیڑھ وغیرہ 

اسم صفت ضمیری کی تعریف

اسم صفت ضمیری وہ الفاظ ہیں جو بطور صفت استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے جو، کیا، کون، وہ ۔

مثالیں

وہ لڑکی آئی تھی ۔

یہ کام مجھ سے نہیں ہوسکتا۔

کون شخص ایسا کہہ سکتا ہے۔

جو کام تم سے نہیں ہوسکتا اسے کیوں ہاتھ لگاتے ہو؟

کیا چیز گر پڑی؟

اسم صفت کی مذکر مونث اور جمع واحد

اُردو زبا ن میں صرف انھیں اسم صفت میں تذکیر و تانیث یا واحد جمع ممکن ہوتے ہیں۔ جن کے واحد کی آخر میں (الف یا ہ) موجود ہو۔

اسماء کی طرح اردو صفات کے آخر کا الف مذکر کی علامت ہے۔ اور یائے معروف تانیث کی۔ جمع کی حالت میں واحد کا آخری الف یائے مجہول سے بدک دیا جاتا ہے ۔ 

مونث میں واحد اور جمع کی صورت یکساں ہوتی ہے۔

مثلاََ اچھا مرد سے اچھے مرد 

جن صفات کی آخر میں “الف” یا یائے معروف نہیں ہوتی ان کی صورت واحد جمع، تذکیر و تانیث ایک ہی رہتی ہے۔

مثلاََ 

گرم کھانا سے گرم کھانے 

مونث

گرم روٹی سے گرم روٹیاں 

صفات عددی میں مذکر کا “اں” مونث میں ی معروف اور “ن” سے بدل جاتا ہے۔ 

مثلاََ

مونث

پانچویں عورت 

پانچویں عورت نے 

مذکر

پانچویں مرد نے 

پانچواں مرد

اُمید ہے کہ اس باب کو مکمل کرنے کے بعد آپ اسم صفت اور موصوف کی تعریف  اور اقسام سے واقف ہوچکے ہونگے ۔ اگر پھر بھی آپ کی ذہین میں اسم صفت اور موصوف کے حوالے سے کوئی سوال ہے۔ تو کمنٹ سیکشن میں ضرور پوچھے گا۔ 

One Comment

تبصرہ کیجئے

Your email address will not be published. Required fields are marked *