بہترین اشعار کا مجموعہ

اردو شاعری کی اس حصے میں بہترین اشعار کا مجموعہ ملاحظہ کیجئے ۔ جس میں ہم نے خوبصورت اشعار کا گلدستہ بنایا ہے۔

بہترین اشعار کا مجموعہ

وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا

عشق کے باب میں سب جُرم ہمارے نکلے

پروین شاکر

اب تیری آرزو کہاں مجھ کو 

میں تیری بات بھی نہیں کرتا

جون ایلیاؔ

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگے ہیں

فیض احمد فیضؔ

جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھی 

محسوس یہ ہوا تجھے ہر بار دیکھ کر

شاد عظیم آبادی

میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایا 

اس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا

وسیم بریلویؔ

مجھے دیکھ کر اُس نے پھیر لیا چہرہ 

تسلی ہوگئی دل کو چلو پہچانتے تو ہیں

فرصت میں کریں گے حساب تجھ سے اے زندگی

اُلجھے ہوئے ہیں ہم، ابھی خود کو ہی سلجھانے میں 

اناں کہتی ہے التجا کیا کرنی زید 

وہ محبت ہی کیا؟ جو منتوں سے ملے

درد کی شام ہو یا سکھ کا سویرا ہو 

سب گوارا ہے مجھے ساتھ بس تمہارا ہو

چاند سے چہرے کا صدقہ بھی اُتارا کیجئے 

مشورہ ہے یہ میری جان گوارا کیجئے

میں خالی کتاب سی ہوں، بھر سکتے ہو کیا

محبت میں مرسکتی ہوں تم ایسی محبت کرسکتے ہو کیا

آسان نہیں یوں ہم سے شاعری میں جیت پانا

ہم ہر لفظ محبت میں ہار کرلکھتے ہیں۔۔۔

کون کرے اس دل کی دیکھ بھال 

روز تھوڑا سا ٹوٹ جاتا ہے

سنا ہے اُس کو محبت دعائیں دیتی ہے 

جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلا نہ کرے

زندگی سے یہی گِلا ہے مجھے 

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

ہر ایک موسم میں روشنی سی بکھیرتے ہیں 

تمہارے غم کے چراغ میری اداسیوں میں 

زندہ کا دل دکھا کر لوگ

میت سے معافی مانگتے ہیں

تعویذ نما ہوتے ہیں کچھ لوگ

گلے لگتے ہیں تو شفا ملتی ہے

وفا وہ کھیل نہیں جو جھوٹے والے کھیلیں 

روح بھی کانپ جاتی ہے جُدا جب یار ہوتا ہے

جن کی قسمت میں لکھا ہو رونا محسن 

وہ مسکرابھی دیں تو آنسو نکل آتے ہیں

کسی اور کی جگہ باقی نہیں ہے مجھ میں 

ہم تم سے شروع ہو کر تم پہ ہی ختم ہوتے ہیں

چلو پھر سے غم کو بھلانے چلیں 

ہے حیات جب تک مسکرانے چلیں

بس آپ ہی کا آسرا تھا مجھے 

اب آپ کا بھی آسرا نہ رہا

تم کو چاہنے کی وجہ کچھ بھی نہیں 

عشق کی فطرت ہے بے وجہ ہوجانا

چہرے اجنبی ہو جائیں تو کوئی بات نہیں 

لہجے اجنبی ہو تو بڑی تکلیف دیتے ہیں

جو تو نہیں ہے تو یہ مکمل نہ ہو سکیں گی

تری یہی اہمیت ہے میری کہانیوں میں 

ہاتھ سے ایسے ہاتھ ملاو کہ لکیریں ایک ہوجائیں 

کبھی تو اتنے پاس آو کہ سانسیں ایک ہوجائیں

کتنی دل کش ہے اس کی خاموشی 

ساری باتیں فضول ہوں جیسے

کیا ملا تم کو میرے عشق کا چرچا کرکے

تم بھی رسوا ہوئے آخر مجھے رسوا کرکے

ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھا

میں زندگی کے بڑے سخت امتحان میں تھا

محبت کھیل ہے قسمت کا

زُلیخا نام رکھنے سے یوسف نہیں ملتا

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس

درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

دل نے سوچا تھا کہ اُسے ٹوٹ کر چاہیں گے 

سچ مانو ٹوٹے بھی بہت چاہا بھی بہت

خُدا کرے کبھی دور ہونا پڑے تم سے 

جی نہیں پاتا کوئی جان سے بچھڑنے کے بعد

جب قید کیا تھا تو پر کیوں کاٹے میرے 

یقین نہیں تھا کیا تمہیں اپنی زنجیروں پہ

یہ میری ذات کی سب سے بڑی تمنا تھی 

کاش کہ وہ میرا ہوتا میرےنام کی طرح

دل وجان سے کرے گے حفاظت تیری

بس ایک بار کہہ دے امانت ہو میں تیری

محبت میں دل کا ٹوٹنا تم کبھی نہیں جان پاوگے

اگر ہوتی لوگوں میں وفا تو آج ہم اُداس نہ ہوتے

کبھی پتھر کی ٹھوکر سے بھی آتی نہیں خراش

کبھی ذرا سی بات سے انسان بکھرجاتا ہے

وقت جو ایک پل کو رُک جائے تو احسان اُس کا

چند یادیں میرے دل میں سے گزرنا چاہیں

یو نہی تو نہیں ہوتیں بھیڑ جنازو ں میں

ہر شخص اچھا ہے چلے جانے کے بعد

ادھوری بات ہے لیکن میرا کہنا ضروری ہے

میری سانس چلنے تک تیرا ہونا ضروری ہے

مجھے اپنے مرنے کا غم نہیں لیکن

ہائے! میں تجھ سے بچھڑ جاوں گا

مسکرانے سے شروع اور رُلانے پہ ختم 

یہ اِک ظلم ہے جسے لوگ محبت کہتے ہیں

سنبھل کے چلنا یہ شہر عقابوں کا ہے

لوگ سینے سے لگا کر کلیجہ نکال لیتے ہیں

کچھ اس ادا سے میرے ساتھ بے وفائی کر 

کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے

یادوں کی کتاب اٹھا کر دیکھی تھی میں نے 

پچھلے سال ان دنوں تم میرے تھے

بہت یاد کرتا ہے کوئی ہمیں دل سے 

نہ جانے دل سے یہ وہم کیوں نہیں جاتا

نگاہیں نہ پھیرو چلے جائیں گے ہم

مگر اتنا یاد رکھو، یاد آئیں گے ہم

کھبی یادیں کھبی باتیں کھبی پچھلی ملاقاتیں 

بہت کچھ یاد آتا ہے تیرے اِک یاد آنے سے

وہ مسکان تھی کہیں کھو گئی 

اور میں جذبات تھا کہیں بکھر گیا

محسوس کر ہمیں خود میں 

تیری سانسوں میں رہتے ہیں ہم

نفرتوں کے تیر کھا کر ، دوستوں کے شہر میں 

ہم نے کس کس کو پکارا، یہ کہانی پھر سہی

ہر ایک موسم میں روشنی سی بکھیرتے ہیں 

تمہارے غم کے چراغ میری اُداسیوں میں 

مرنے والے تو خیر بے بس ہیں 

جینے والے کمال کرتے ہیں

مجھے بھی آیئنے جیسا کمال حاصل ہے 

میں ٹوٹتا ہوں تو پھر بے شمار ہوتا ہوں

مرہم نہ بن سکے گی کبھی معذرت تیری 

دل توڑ نے سے پہلے تجھے سوچنا تو تھا

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کرلے

ہم توکل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان 

بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے

اگر دیکھ پاتے تم میری چاہت کی انتہا

تو ہم تم سے نہیں تم ہم سے محبت کرتے

شفا دیتا ہے کبھی جس کا مرہمی لہجہ 

وہ مسیحا مجھے بیمار کرکے چھوڑگیا

بات بات پہ مسکراتے ہو کیوں باربار

جان لینے کے طریقے اور بھی ہیں ہزار

کاش کھبی ایسی بھی خوبصورت رات ہو

اک چاند آسمان پہ اور اِک میرے ساتھ ہو

اگر آپ کو بہترین اشعار کا مجموعہ پسند آیا ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں۔

تبصرہ کیجئے

Your email address will not be published. Required fields are marked *