راحت اندوری کی شاعری : مشہور اردو اشعار اور غزلیں

اردو شاعری کی اس صفحہ  پر آپ راحت اندوری کی شاعری جس میں  راحت اندوریؔ کے مشہور اشعار ، غزلیں  اورنظمیں شامل   ہیں ، پڑھ سکتے ہیں۔ 

راحت اندوری کی شاعری
Rahat Indori Shayari

نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا

ہمارے پاوُں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

دوستی جب کسی سے کی جائے 

دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

Rahat Indori Shayari in Urdu 2 Line

مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے 

مرے بھایی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے

دو گز سی مگر یہ میری ملکیت تو ہے

اے موت تو نے مجھے زمیندار تو کیا 

افواۃ تھی کہ میری طبعیت خراب ہے

لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کردیا

مرے جذبے کی بڑی قدر ہے لوگوں میں مگر

میرے جذبے کا مرے ساتھ ہی مرجانا ہے

جہالتوں کے اندھیرے مٹا کے لوٹ آیا 

میں، آج ساری کتابیں جلا کے لوٹ آیا

یہ سوچ کر کہ وہ تنہائی ساتھ لائے گا

میں چھت پہ بیٹھے پرندے اڑا کے لوٹ آیا

ایسی سردی ہے کہ سورج بھی دہائی مانگے 

جو ہو پردیس میں وہ کس سے رضائی مانگے

کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں

اور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیں

ہم پہ حاکم کا کوئی حکم نہیں چلتا ہے

ہم قلندر ہیں شہنشاہ لقب کرتے ہیں

آپ کی نظروں میں سورج کی ہے جتنی عظمت

ہم چراغوں کا بھی اتنا ہی ادب کرتے ہیں

دیکھئے جس کو اسے دھن ہے مسیحائی کی 

آج کل شہروں کے بیمار مطب کرتے ہیں

اس کی یاد آئی ہے سانسوں ذرا آہستہ چلو

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں ظلل پڑتا ہے

ارادہ تھا کہ میں کچھ دیر طوفاں کا مزہ لیتا

مگر بے چارے دریا کو اتر جانے کی جلدی تھی

Urdu Shayari Rahat Indori

راحت اندوری کی غزلیں

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے 

جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے 

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے 

عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے 

اب کے مایوس ہوا یاروں کو رخصت کرکے

جارہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے 

رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ورنہ 

ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے 

میں تو چلتے ہوئے صحراوں کا اک پتھر تھا

تم تو دریا تھے مری پیاس بجھاتے جاتے 

مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید

لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے 

ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے

کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

میرا ضمیر میرا اعتبار بولتا ہے

میری زبان سے پروردگار بولتا ہے

تیری زبان کو کترنا بہت ضروری ہے 

تجھے مرض ہے کہ تو بار بار بولتا ہے

کچھ اور کام اسے آتا ہی نہیں شاید

مگر وہ جھوٹ بہت شاندار بولتا ہے

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے

چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے

ایک دیوانہ مسافر ہے میری آنکھوں میں 

وقت بے وقت ٹھہر جاتا ہے ، چل پڑتا ہے

اپنی تعبیر کے چکر میں میرا جاگتا خواب

روز سورج کی طرح  گھر سے نکل پڑتا ہے

روز پھتر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں

روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے

اس کی یاد آئی سانسوں! ذرا آہستہ چلو 

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

یہ بھی پڑھیں: اردو شاعری

تیری ہر بات محبت میں گوارا کرکے 

دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کرکے

اک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے

وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کرکے

میں وہ دریاں کہ ہر بوند بھنور ہے جس کی 

تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کرکے

منتظر ہوں کہ ستاروں کے ذرا آنکھ لگے

چاند کو چھت پہ بلا لوں گا اشارہ کرکے

لوگ ہر موڑ پہ رک کے سنبھلتے کیوں ہیں 

اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں

غزل

دل بری طرح سے دھڑکتا رہا 

وہ برابر مجھے ہی تکتا رہا 

روشنی ساری رات کم نہ ہوئی 

تارا پلکوں پہ اک چمکتا رہا 

چھو گیا جب کھبی خیال ترا

دل مرا دیر تک دھڑکتا رہا

کل ترا ذکر چھڑ گیا گھر میں 

اور گھر دیر تک مہکتا رہا

رات ہم میکدے میں جا نکلے 

گھر کا گھر شہر میں بھٹکتا رہا 

اُس کے دل میں تو کوئی میل نہ تھا

میں خدا جانے کیوں جھجکتا رہا 

مٹھیاں میری سخت ہوتی گئیں

جتنا دامن کوئی جھٹکتا رہا

راحت اندوریؔ

Rahat Indori Ghazal

اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے

یہ سب دھواں ہے ، کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے کی آگ تو آئیں گے کئی گھر زد میں 

اس شہر میں صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن

ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے 

ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

جو آج صاحب مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں 

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

اردو غزلیات راحت اندوری

انصاف ظالموں کی حمایت میں جائے گا

یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائے گا

دستار نوچ ناچ کے احباب لے اُڑے 

سر بچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائے گا

دوزخ کے انتظام میں اُلجھا ہے رات دن 

دعوٰی یہ کررہا ہے کہ جنت میں جائے گا

خوش فہمیوں کی بھیڑ میں تو بھول کیوں گیا

پہلے مرے گا بعد میں جنت میں جائے گا

واقف ہے خوب جھوٹ کے فن سے یہ آدمی 

یہ آدمی ضرور سیاست میں جائے گا

اُٹھی نگاہ تو اپنے ہی رو بہ رو ہم تھے 

زمین آئینہ خانہ تھی، چار سُو ہم تھے 

دِنوں کے بعد اچانک تمہارا دھیان آیا 

خدا کا شکر کہ اُس وقت باوضو ہم تھے 

وہ آیئنہ تو نہیں تھا پر آیئنے سا تھا

وہ ہم نہیں تھے مگر یار ہو بہو ہم تھے 

زمیں پہ لڑتے ہوئے آسماں کے نرغے میں 

کبھی کبھی کوئی دشمن، کھبو کھبو ہم تھے 

ہمارا ذکر بھی اب جرم ہوگیا ہے وہاں 

دنوں کی بات ہے محفل کی آبرو ہم تھے 

خیال تھا کہ یہ پتھراو روک دیں چل کر 

جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے

راحت اندوری شاعری

میں آخر کون ساموسم تمہارے نام کر دیتا 

یہاں ہر ایک موسم کو گزرجانے کی جلدی تھی

شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہم 

آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے

ایک ہی ندی کے ہیں ، یہ دو کنارے دوستو

دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پر 

لوگ لیتے ہیں مزہ ذکر تمہارا کرکے

وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا 

میں اس کےتاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا

یہ سانحہ تو کسی دن گزرنے والا تھا

میں بچ بھی جاتا تو ایک روز مرنے والاتھا

Rahat Indori Best Poetry

مجھے وہ چھوڑ گیا یہ کمال ہے اس کا

ارادہ میں نے کیا تھا کہ چھوڑدوں گا اسے

شراب پی کے بڑے تجربے ہوئے ہیں ہمیں 

شریف لوگوں کو ہم مشورہ نہیں دیں گے

یہ بھی پڑھیں: فیض احمد فیض شاعری

راز جو کچھ ہو اشاروں میں بتا بھی دینا

ہاتھ جب اِن سے ملانا تو دبا بھی دینا

گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیا 

گھر کے اندر دنیاداری رہتی ہے

میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو

آسماں لائے ہو لے آو زمیں پر رکھ دو

مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو 

سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑدوں گا اسے

ساری بستی قدموں میں ہے، یہ بھی ایک فنکاری ہے 

ورنہ بدن کو چھوڑ کے اپنا جو کچھ ہے سرکاری ہے

مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھا 

دیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھا

دیکھتے ہی دیکھتے شہروں کی رونق بن گیا 

کل یہی چہرہ ہمارے آئینوں پر بار تھا 

اپنی قسمت میں لکھی تھی دھوپ کی ناراضگی 

سایہ دیوار تھا لیکن پس دیوار تھا

سب کے دکھ سکھ اس کے چہرے پر لکھے پائے گئے 

آدمی کیا تھا ہمارے شہر کا اخبار تھا

اب محلے بھر کے دروازوں پے دستک بے نصیب 

اک زمانہ تھا کہ جب میں بھی بہت خوددار تھا

Rahat Indori Poetry

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیئے 

میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیئے

روز وہی اک کوشش زندہ رہنے کی 

مرنے کی بھی کچھ تیاری کرو

فیصلہ جو کچھ بھی ہو منظور ہونا چاہیئے 

جنگ ہو یا عشق بھر پور ہونا چاہیئے

اجنبی خواہشیں ۔۔۔

اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوں 

ایسے ضدی ہیں پرندے کہ اُڑا بھی نہ سکوں 

پھونک ڈالوں گا کسی روز میں دل کی دنیا 

یہ ترا خط تو نہیں ہے کہ جلا بھی نہ سکوں 

میری غیرت بھی کوئی شے ہے کہ محفل میں مجھے 

اُس نے اس طرح بلایا کہ جا بھی نہ سکوں 

پھل تو سب میرے درختوں کے پکے ہیں لیکن

اتنی کمزور ہیں شاخیں کہ ہلا بھی نہ سکوں 

اک نہ اک روز کہیں ڈھونڈ ہی لوں گا تجھ کو

ٹھوکریں زہر نہیں ہیں کہ میں کھا بھی نہ سکوں

میں نہ جگنوہوں، دیاں ہوں نہ کوئی تارا ہوں

روشنی والے میرے نام سے جلتے کیوں ہیں

Urdu Poetry Text Copy

تبصرہ کیجئے

Your email address will not be published. Required fields are marked *