سید سکندر شاہ ترمذی اردو شاعری

سید سکیندر شاہ ترمذی اردو شاعری
Syed Sikandar Shah Tarmizi Urdu Poetry

روداد عشق

اب کتابوں میں بھی اسلاف کے اسباق نہیں
یہاں مجرم پہ بھی قانون کا اطلاق نہیں
میں ڈھونڈتا ہوں اپنی عشق کی کہانی کو
پر تیرے حسن کے تپتے ہوئے اوراق نہیں
دلوں پہ راج گر کریں تو نرم خوئی سے
حسن کیا چیز ہے جس میں حسن اخلاق نہیں
میرے دماغ کے کھوئے ہوئے تہہ خانوں میں
سباق مل ہی گیے پر وہی سیاق نہیں
تیرے غرور کے اڑتے ہوئے خیالوں سے
کسی بھی حال میں ضمیر کا الحاق نہیں
کسی کی جان بھی مانگو تو جان حاضر ہے
کسی کے حسن تدبر سے گر تو عاق نہیں
وہ کہیں جڑ نہ سکے گا کہیں زمانے میں
جس کے خیالوں کا کہیں باہمی میثاق نہیں
وہ بچھڑتے ہی سکندرؔ یوں مسکرا کے گئی
میں راہ تھکتے رہ گیا کوئی مذاق نہیں

سید سکندرشاہ سکندرؔ

لکیر ازل

تیری قسمت کے لکیروں کا طول زیادہ ہے
پر میرے مغز کے خلیوں میں بھول زیادہ ہے
اگر بہار میں پھولوں کے لئے آنا ہے
اب تو پت جھڑ میں بھی بہار سے پھول زیادہ ہے
لوگ آئے تھے یہاں لطف اٹھانے کے لیے
آکے قصبوں سے یہاں پر بھی دھول زیادہ ہے
سرور گنج سے فیض یاب ہو کے جاؤ گے
میرے افکار کے رسیوں میں جھول زیادہ ہے
میری حکمت کی انتہا کے یہ زریں اقوال
کسی کے ان کہی باتوں تول زیادہ ہے
عشق کے گنج اور بیش بہا خزانے میں
جو بھی لینا ہے ابھی آکے کھول زیادہ ہے
ؔکہیں سے آ ہی گئی ہے صدا کہ اٹھ سکندر
چمن میں پھر سے پرندوں کا غول ذیادہ ہے

سید سکندرشاہ سکندرؔ

Love Poetry in Urdu

مفت میں

کرنا ہے گر دیدار مفت میں
ہونا ہے شرمسار مفت میں
جینا ہے گر اس لا شعور میں
تو بھی شعور ہار مفت میں
ملتا نہیں رقیب ایسا مفت
تو مانگتا ہے یار مفت میں
سو بار جو ملتا ہے دام پر
ملتا نہیں اک بار مفت میں
پیدل ہی نہ چلے گا دو قدم
چلتے ہیں شاہسوار مفت میں
پت جھڑ نے بھی رکھا ہے معاوضہ
آیے گا کب بہار مفت میں
میت پہ میری خوب خوشی ہے
منا لیا تہوار مفت میں
جلوہ نہ دکھایا ہے رات بھر
کر لی ہے انتظار مفت میں
معلوم تھا انجام الفت کا
چڑھا ہو اب تو دار مفت میں
نظروں سے گر گیا ہوں سکندر
دلوں سے ہوں فرار مفت میں

یہ بھی پڑھیں: راحت اندوری کی شاعری

Best Poetry in Urdu

صدائے ضمیر

تیرے رخسار کے شعلوں میرا
بس یہی ایک ہی سوال ہوا
ملن سے بڑھتی ہے توقیر بہت
جانے کیوں میرا ہی زوال ہوا
وہ فرشتے کا روپ میں سمجھا
وہ ایک پل میں ہی دجال ہوا
تیرا خیال جو سینے سے لگا
میرے خیال کو خیال ہوا
جس کو مانگا بہار و گلشن میں
وہ اسی روز سے بد حال ہوا
میرے ضمیر نے اٹھائی ہے صدا
تجھ سے کہنے کا اب مجال ہوا
میں نے ناصح کو نصیحت جو کی
غصے سے رنگ اس کا لال ہوا
اب تو چومیں گے وہ ضرور مجھے
میں سکندرؔ کسی کا گال ہوا

Urdu Shayari

جیون

میں تو بگڑے ہوئے یادوں کو تھام لیتا ہوں
اپنی زباں سے بس اسی کا نام لیتا ہوں
کبھی دھوؤں کی دم سے خود ہی سنبھل جاتا ہوں
کبھی میخانے میں بے خوف جام لیتا ہوں
یہ کل جہان ہے انسان کی خیرخواہی میں
کیسا انسان ہوں انسان کا دام لیتا ہوں
کہاں سے تیر برسائے کہاں سے وار کیا
میں تو آنکھوں سے بھی تلوار کا کام لیتا ہوں
تیرے سرور سے جو انگشت بہ دندان ہویے
اسی نظر سے ہمیشہ ہی بام لیتا ہوں
میری جیون کو تو ازل سے تا ابد لے لیں
پر تیری زندگی کا ایک شام لیتا ہوں
ؔکہاں پہ تاج خراساں کہاں مجنوں سکندر
میں تو پاگل ہوں جو تیرا مقام لیتا ہوں

Poetry in Urdu Text

ہستی

بستی میں آگ لگ گئی ہستی چلی گئی
ہستی کا نہ سوچا مگر بستی چلی گئی
جانا تو تھا ضرور پر افسوس اس لیے
بے معنی بے رضا اور سستی چلی گئی
بنا لیا امید کا مضبوط ٹھکانہ
فانی جہاں سے پھر بھی ترستی چلی گئی
رو کر جہاں میں آیے ھنس کر گزارے دن
بادل ہوئے لمحات برستی چلی گئی
نہلا دیا تو نے مجھے آب شباب میں
چہرے کے جھریاں دیکھ کے مستی چلی گئی
تھا خود غرض سکندرؔ محفل یاراں میں
سبق جو مل گیا خود پرستی چلی گئی۔

Urdu Poetry Text Copy

یہ بھی پڑھیں: جوش ملیح آبادی شاعری

2 Comments

تبصرہ کیجئے

Your email address will not be published. Required fields are marked *