علامہ اقبال اردو شاعری | علامہ اقبال کی شاعری ، غزلیں اور مشہور اشعار

اردو شاعری کی اس حصے میں علامی اقبال اردو شاعری آپ کے پیش خدمت ہیں۔ جس میں ہم نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے مشہور اشعار کو جمع کیا ہے۔ 

Allama Iqbal Urdu Poetry
علامہ اقبال اردو شاعری
Allama Iqbal Poetry in Urdu Text

اقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں 

معلوم کیا کسی کو دردِ نہاں ہمارا

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 

خُدا بندے سے خود پوچھ بتا تیری رضا کیا ہے

ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

دل میں خُدا کا ہونا لازم ہے اقبالؔ 

سجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی

بات سجدوں کی نہیں خلوص نیت کی ہوتی ہے اقبال 

اکثر لوگ خالی ہاتھ لوٹ آتے ہیں ہر نماز کے بعد

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں 

تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

کرتے ہیں سجدوں میں ہم 

اپنی حسرتوں کی خاطر اقبالؔ

اگر کرتے صرف عشق خُدا میں

تو کوئی حسرت ادھوری نہ رہتی 

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی 

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

کرتے ہیں سجدوں میں ہم 

اپنی حسرتوں کی خاطر اقبال 

اگر کرتے صرف عشق خدا 

تو کوئی حسرت ادھوری نہ رہتی

اقبال کی شاعری خودی پر

Allama Iqbal Urdu Poetry About Khudi

مت کر خاک کے پتلے پہ غرور وبے نیازی اتنی 

خودکو خودی میں جھانک کر دیکھ تجھ میں رکھا کیا ہے

خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر 

قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام 

خودی کی موت سے پیر جرم ہوا مجبور 

کہ بیچ کھائے مسلماں کا جامہ احرام

کھول آنکھ ،زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

آنکھ کو بیدار کر دے وعدہ دیدار سے 

زندہ کر دے دل کو سوز جوہر گفتار سے

کون یہ کہتا ہے ،خدانظر نہیں آتا

وہی تو نظر آتا ہے جب کچھ نظر نہیں آتا

فطرت کو خرد کے روبرو کر

تسخیر مقام رنگ و بو کر 

تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے

کھوئی ہوئی شئے کی جستجو کر

تاروں کی فضا ہے بیکرانہ

تو بھی یہ مقام آرزو کر

عریاں ہیں تیرے چمن کی حوریں

چاک گل و لالہ کو رفو کر

بے ذوق نہیں اگر چہ فطرت

جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر

کھبی دریا سے مثلِ سوج اُبھر کر

کبھی دریا کے سینے میں اُتر کر

کبھی دریا کے ساحل سے گزر کر

مقام اپنی خُودی کا فاش تر کر

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں 

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

علم میں بھی سرور ہے لیکن

یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

یہ موج نفس کیا ہے، تلوار ہے

خودی کیا ہے، تلوار کی دھارہے

اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی 

ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نیا شام پیداکر

خدااگر دل فطرت شناس دے تجھ کو

سکوت لالہ وگل سے کلام پیدا کر

مراطریق امیری نہیں ، فقیری ہے

خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیداکر

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا

پر دم ہے اگر تو، تو نہیں خطرہ افتاد

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل 

اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل

خودی کی یہ ہے منزل اولیں

مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں

تری آگ اس خاک داں سے نہیں

جہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیں

تو راز کن فکاں ہے ، اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا

خودی کا رازداں ہوجا، خدا کا ترجماں ہوجا

خودی کیا ہے تلوار کی دھار

خودی کیا ہے رازدرون حیات

خودی کیا ہے بیداری کائنات

خودی جلوہ بدمست وخلوت پسند

خودی کے ساز میں ہے عمر جاوداں کا سُراغ

خودی کے سوزسے روشن ہیں امتوں کے چراغ

علامہ اقبال شاعری عشق

Allama Iqbal Ishq Poetry in Urdu

آدمی کی ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق

شاخ گل میں جس طرح باد سحر گا ہی کا نم

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی 

نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدری بھی

یہ بتائیں کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟

سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی

حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

صدقِ خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق

معرکہ وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشق

جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفاہی نہیں 

ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں

جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں

ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسم محمدﷺ سے اُجالا کردے

عشق تری انتہا عشق مری انتہا

تو بھی ابھی ناتمام میں بھی ابھی ناتمام

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں 

عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا

میری خاک جگنو بنا کر اڑا

علامہ محمد اقبال کے مشہور اشعار

Allama Iqbal Famous Shayari

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت

ڈھونڈ پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کو 

آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

لوگ پتھر مارنے آئے تو وہ بھی ساتھ تھے

جن کے گناہ کبھی ہم اپنے س لئے کرتے تھے

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

علامہ اقبال اردو شاعری کا بہترین مجموعہ

Allama Iqbal Poetry 2 Lines Collection

تیری رحمتوں پہ ہے منحصر میرے ہر عمل کی قبولیت

نہ مجھے سلیقہ التجا نہ مجھے شعور نماز ہے

اپنے کردار پہ ڈال کر پردہ اقبالؔ

ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

دل سے جوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

برا سمجھوں انہیں،مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا

کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نقتہ چینوں میں

فنا کر اپنی زندگی کو راہ جنوں میں اے نوجوان

تب کرے گا عبادت جب گناہ کی طاقت نہ ہوگی

دلوں کی عمارتوں میں کہیں بندگی نہیں

پتھر کی مسجدوں میں خدا ڈھونڈتے ہیں لوگ

کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

آنکھ کو بیدار کر دے وعدہ دیدار سے

زندہ کردے دل کو سوز جوہر گفتار سے

کھول آنکھ ،زمیں دیکھ، فلک دیکھ،فضا دیکھ

مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی 

خُدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

جب بھی یہ دل اُداس ہوتا ہے

جانے کون آس پاس ہوتا ہے

تو شاہیں ہے پروازہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور  بھی ہیں

مت کر اتنے گناہ ، توبہ کی آس پر اے انساں

بے اخیار سی موت ہے نہ جانے کب آجائے

علم اور تعلیم کے متعلق علامہ اقبال کی شاعری

Allama Muhammad Iqbal Poetry About Education

ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہاکوئی 

نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِفطرت میں نوا کوئی

اللہ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہ 

املاک بھی اولادبھی جاگیر بھی فتنہ 

ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ 

شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

دوا کی تلاش میں رہا

دُعا کو چھوڑ کر

میں چل نہ سکا دنیا میں 

خطاووں کو چھوڑ کر 

حیران ہو میں 

اپنی حسرتوں پہ اقبالؔ

ہر چیز خدا سے مانگ لی 

مگر خُدا کو چھوڑ کر

نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشت ویراں سے 

ذرا نم ہو تویہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی 

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

یو تو سید بھی ہو، مرزا بھی ، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتاو تو مسلمان بھی ہو

کبھی اے نوجواں مسلم ، تدبر بھی کیا تو نے 

وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

اُس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا 

جو یہ کہتا تھا خردسے کہ بہانے نہ تراش

حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہیں پیچھے

جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا

نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لئے 

جہاں ہے تیرے لئے ، تو نہیں جہاں کے لئے

ہر شخص جل رہا ہے حسد کی آگ میں 

اس آگ کو بجھانے دےوہ پانی تلاش کر

دل پاک نہیں تو پاک ہوسکتا نہیں انساں 

ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت

منزل سے ٖآگے بڑھ کر منزل تلاش کر

مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر

ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہےپتھر کو چوٹ سے 

پتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر

سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزگئیں

دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر

Urdu Poetry Text Copy

یہ بھی پڑھیں: فیض احمد فیض شاعری

امید ہے کہ علامہ اقبال کی یہ اردو شاعری آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی ۔ اس شاعری میں آپ کا پسندیدہ اردو شاعری کونسی ہیں۔ کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور بتائیں۔

تبصرہ کیجئے

Your email address will not be published. Required fields are marked *