علی نہال اردو شاعری

Ali Nihal Urdu Poetry
علی نہال اردو شاعری

جب سے ہوئے ہیں یار عطا بال و پر مجھے
آواز دے کے تھک چکا اپنا ہی گھر مجھے

تم تھے تو مجھ کو لگتا تھا یہ دشت بھی چمن
تم کیا گئے ہو چبھتے ہیں دیوار و در مجھے

یاروں میں جب سے آگئیں سانپوں کی خصلتیں
جنگل کے اب تو نام سے لگتا ہے ڈر مجھے

حاکم خدا کا واسطہ اک مہربانی کر
یا مار دے یا قید سے آزاد کر مجھے

اک شخص نے ادھیڑ کے رکھا ہے اسطرح
اب سی نہ پائیں گے کبھی یہ بخیہ گر مجھے

تراب کوچوں میں پھینک آتے ہیں
گلاب کوچوں میں پھینک آتے ہیں

مست آنکھیں ہیں کر گئیں اس کی
شراب کوچوں میں پھینک آتے ہیں

آو نہ مل کے زندگی کو ہم
جناب کوچوں میں پھینک آتے ہیں

نیند کھل جائے تو ہمارے لوگ
خواب کوچوں میں پھینک آتے ہیں

ہم نے تم سے جناب مانگا تھا
وصل کا ایک خواب مانگا تھا

اس نے بھیجی کتاب ہجر مجھے
میں نے بس ایک باب مانگا تھا

اب کیوں روتے ہو یار فصلوں کو
پہلے خوب ہی سیلے آب مانگا تھا

ہم بھی اس کو جواب دے آئے
اس نے خود ہی جواب مانگا تھا

دیکھنے ہیں اگر اے یار غم محبت کے
ہیں ترے سامنے بیمار ہم محبت کے

فکرِمعاش بھی مسلہ ہے دور حاضر کا
ہر کسی کو نہیں ہوتے ہیں غم محبت کے

اسد سے کہہ دو عقیدہ تو تھا اک جیسا علی
پھر بھی ہم دور ہوئے ہیں کرم محبت کے

اے مرے مرشد و سردار ذرا غور تو کر
کب تلک جھیلیں گے آزار ذرا غور تو کر

آنکھیں یعقوب نہ ہو جائیں تیری یادوں میں
دل نے ہو جائے یہ لاچار ذرا غور تو کر

محکمہ طب میں بہت نام سنا ہے تیرا
مر نا جائیں ترے بیمار ذرا غور تو کر

ان لکیروں سے سبھی کچھ ہے عیاں اے جوطش
سب نظر آئے گا اے یار غور تو کر

کتنا دلچسپ ماجرا ہے ناں
وہ مجھے چھوڑ کر گیا ہے ناں

تو اگر ہے کسی کہ پاس گیا
پھر مرا بھی تو اک خدا ہے ناں

میں خفا تھا تو کیا ہوا جاناں
تو بھی تو مجھ سے اب خفا ہے ناں

ویسے مردے سے کون ملتا ہے
تیرا ملنا تو معجزہ ہے ناں

مجھ کو لگتا ہے اس نے آنا ہے
گھر کا دروازہ جو کھلا ہے ناں

تیری آنکھیں بتا رہی ہیں مجھے
ترک تعلق پہ توں رویا ہے ناں

کانٹے پھولوں کے ساتھ ہوتے ہیں
تیرے ساتھ میری بھی جگہ ہے ناں

دیکھ تیرے بغیر جی رہا ہوں
دیکھ یہ میرا حوصلہ ہے ناں

مجھ کو لگتا ہے اس نے آنا ہے
گھر کا دروازہ جو کھلا ہے ناں

تو نے اے یار جو مجھ پہ عنایت کی تھی
میرے ہمدرد وہ تو نے اذیت دی تھی

قتل کرتے رہے بے درد ہو کہ مجھے
یہ بتا میں نے کب تم سے شکایت کی تھی

لوگ بالوں میں سفیدی کا سبب پوچھتے ہیں
کیسے بتلائیں کہ ہم نے بھی محبت کی تھی

دکھ رہا درد رہا یار جو جو بھی رہا
ہم نے ہر حال میں تیری تو اطاعت کی تھی

ہم نے تم سے تو کیا تھا دل کا سودا
تم نے ہم سے فقط لفظوں کی تجارت کی تھی

اب تو ہم اور بھی نہال ہیں تیرے بعد
پہلے کب ہجر رونے کی جسارت کی تھی

مجھ کو تنہائی مار ڈالے گی
تیری بےپرواہی مار ڈالے گی

میں مروں گا نہیں بچھڑنے سے
بس یہ رسوائی مار ڈالے گی

بچ گیا تیرے ساتھ رہ کی اگر
تجھ جدائی مار ڈالے گی

تھوڑی خیرات بھی دیا کر یار
اتنے حسن کا اچار ڈالے گی

مجھ کو ہے علم پہلے رکھے گی پاس
پھر کتاب عشق پھاڑ ڈالے گی

یہ بھی پڑھیں: اردو کے مشہور اشعار

کر لیے لاکھ جتن پھر بھی نہیں بھولا وہ
چھوڑ دیا اپنا وطن پھر بھی نہیں بھولا وہ

مَنتیں مانگیں,دعائیں کیں,وظائف بھی پڑھے
کیسا ہے جاذب من پھر بھی نہیں بھولا وہ

دین کو,دنیا کو, خود کو بھی ہم بھول گئے
بھولے انداز کہن پھر بھی نہیں بھولا وہ

قافیہ,شعر,نظم اور غزل سب بھولے
بھولے انداز سخن پھر بھی نہیں بھولا وہ

دوست, ماں, باپ, خوشی, اور غم سب ٹھولے
بھولے ہیں بھائی, بہن پھر بھی نہیں بھولا وہ

خار ،پھل ،پھول کئے آنکھ سے اوجھل ایسے
چھپ گیا سارا چمن ، پھر بھی نہیں بھولا وه

یاد تھا اس کو علی تیرا سراپا لکھنا
اس لئے نظم کا فن پھر بھی نہیں بھولا وه

عمر بڑھ جائیگی بے کار محبت کرلیں
چھوڑ دے سب اے مرے یار محبت کرلیں

کتنا ہے قیمتی اس عمر میں اک اک لمحہ
پل گزر جائیں گے دو چار محبت کر لیں

جب خبر ہے کہ ہر اک بار مقدم ہے فراق
کیوں نہ اس بار بھی سرکار محبت کر لیں

دلبر و دلکش و دلشاد دل آویز صنم
آج پر کیف ، مزیدار محبت کر لیں

کچھ جوانوں کو محبت میں بڑی جلدی ہے
لولی لنگڑی ہو کہ لاچار محبت کرلیں

بکتا ہو مصر کے بازار میں جب عشق نہال
کس طرح ہم سے بھی نادار محبت کرلیں

بیچنے لگ گئے مردار………دوکانوں والے
اور چپ بیٹھے ہیں یہ لمبی زبانوں والے

ظلم افلاس بتدریج ہے بڑھتا………. جاتا
بولتے کیوں نہیں یہ اونچے مکانوں والے

حاکم وقت تجھے خبر نہیں کیا اس کی
دشمن دیں ہیں یہاں سارے اذانوں والے

اپنی ہی فوج یہاں اپنے مخالف ہے میاں
تیر خود پہ ہی چلاتے ہیں کمانوں والے

یا خدا گر نہیں لینا کسی ظالم سے حساب
پھر مسلط ہیں بھلا ہم پہ کیوں شانوں والے

قید سے اس کی میں آزاد نہیں ہو پایا
یعنی اس عشق میں فرہاد نہیں ہو پایا

لوگ جنگل کو بھی آباد کئیے بیٹھے ہیں
اور مجھ سے چمن آباد نہیں ہو پایا

حیف صد حیف چھیتر برس ہیں ہونے کو
یہ پرندہ ابھی آزاد نہیں ……..ہو پایا

تیری چاہت کو سدا دل میں چھپائے رکھا
یہ فسانہ کبھی روداد نہیں ہو پایا

یہ بھی پڑھیں: محبت شاعری

تبصرہ کیجئے

Your email address will not be published. Required fields are marked *