مسکراہٹ پر شاعری

مسکراہٹ پر شاعری

مسکراہٹ پر شاعری – مسکراہٹ پر خوبصورت اردو شاعری

Muskurahat Poetry in Urdu

بات بات پہ مسکراتے ہو کیوں بار بار 

جان لینے کے طریقے اور بھی ہیں ہزار

مسکراہٹ ہے حُسن کا زیور

مُسکرانا نہ بھول جایا کرو

مسکراہٹ اُن کی دیکھ کر ہم ہوش گنوا بیٹھے 

ہم ہوش میں آنے کو تھے وہ پھر مسکرابیٹھے

یہ بھی پڑھیں : اردو کی بہترین شاعری

اپنی مسکراہٹ کو آپ زرا قابو میں کیجئے 

دلِ نادان اس پر کہیں شہید نہ ہوجائے

ٹھہر سے جو لبوں پہ ہمارے 

ہنسی کے سوا مجال کس کی

Muskurahat Poetry Copy Paste

دردِ دل کی دوا ہے تیری مسکراہٹ 

میرے ہر مرض کی شفا ہے تیری مسکراہٹ

تعلق بعد میں تبدیل ہو کر جو بھی رہ جائے 

محبت میں وہ پہلا مسکرانا یاد رہتا ہے

ہم نے چہرے پہ مسکراہٹ لاکر

آئینوں کو ہمیشہ گمراہ رکھا ہے

میری ہزار شکوے 

تیری اک مسکراہٹ

ہنستے ہوئے چہروں کو غموں سے آزاد نہ سمجھو

ہزاروں غم چپے ہوتے ہیں ہلکی سی مسکان میں 

مسکراہٹ جُدا نہ کرنا میرے یار کی ہونٹوں سے اے خُدا

بڑا معصوم سا چہرہ ہے اُداس ہو تو اچھا نہیں لگتا

مسکراہٹ ،تبسم،ہنسی،قہقہے

مسکراہٹ، تبسم ، ہنسی ،قہقہے 

سب کے سب کھو گئے ہم بڑے ہوگئے

وہ مسکرا کے سارے درد ٹال دیتا ہے

رب کسی کسی کو یہ کمال دیتا ہے

ہم تو فقط تیری مسکراہٹ پہ جان وار بیٹھے 

یوں تو خوبصورت چہرے اور بھی ہزار تھے

کیا ملے گا دل میں نفرت رکھ کے 

تھوڑی سی زندگی ہے ہنس کے گزار دے

Muskurahat Poetry SMS

اے غم زندگی نہ ہونا ناراض 

مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی

سب سمجھتے ہیں غم نہیں مُجھ کو 

ہنستے رہنا بھی کیا مصیبت ہے

کتنی خاموش مسکراہٹ تھی 

شور بس آنکھ کی نمی میں تھا

جن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے

اُن کے آنکھیں اکثر اُداس ہوتی ہے

تیری مسکراہٹ

کوئی صلح کرادے زندگی کی الجھنوں سے 

بڑی طلب ہے ہمیں آج مسکرانے کی

میری سادہ سی مسکراہٹ میں 

تیری چاہت کے رنگ بولتے ہیں

آج تک دیکھا نہیں میں نے کہیں ایسا شباب 

تیرے ہونٹوں کے تبسم سے ہیں شرمندہ گُلاب

خاموش طبعیت مجھ پر جچتی ہی نہیں 

میں ہستی ہوں تو بہاریں بھی مسکراتی ہیں

Smile Poetry in Urdu 2 lines

اک ذرا سا جو میں مسکرا دوں 

غم بھی کہتے لاجواب ہے توں

جس نے ادا سیکھ لی غم میں مسکرانے کی 

اُسے کیا مٹائیں گی گردشیں ،زمانے کی

یوں مسکرائے کہ جان کلیوں میں پڑ گئی 

یوں لب کُشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا

تو مسکرائے سدا اور یونہی آباد رہے 

خُدا کرے یہ نیا سال تجھے راس رہے

کیا ملے گا دل میں نفرت رکھ کے 

تھوڑی سی زندگی ہے ہنس کے گزاردے

یہ بھی پڑھیں: فیض احمد فیض شاعری

جب تیرے نین مُسکراتے ہیں 

زیست کے رنج بھول جاتے ہیں

محض شرارتیں اور مسکراہٹیں نہیں ہیں وہ 

میرے لئے تو تسکین قلب و جان ہیں وہ

دامن ہے ٹکڑے ٹکڑے ہونٹوں پہ ہے تبسم 

اک درس لے رہاہوں پھولوں کی زندگی سے

تعلق کتنا گہرا ، ربط کتنا خوبصورت ہے 

لہوں پر مسکراہٹ اور سینوں میں کدورت ہے

فقیری میں بھی اعلیٰ انداز رکھتا ہوں 

حال جیسا بھی ہو مسکراہٹ برقرار رکھتا ہوں

مسکراہٹ پر خوبصورت اشعار

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا

میں دل سے رووں گی آنکھوں سے مسکراوں گی

مہک اٹھتا ہے چمن تشریف تیری لانے سے 

پھول مسکراتے ہیں تیرے مسکرانے سے

تجھ کو سوچوں تو میرے چہرے پر 

تیری مسکراہٹ کا اثر رہتا ہے

ہمارا مُسکرانا بس درد کو چُھپانے کا بہانہ ہے 

ہمارا جیسے ہونے کی کبھی خواہش مت کرنا

چھین کر مسکراہٹ میرے چہرے سے 

اکثر پوچھتے ہے وہ کیا آپ مسکراتے نہیں؟

مسکراہٹ کی بات کرتے ہو

جی رہی ہوں یہی غنیمت ہے

تماشہ بنا رکھا ہے میرا 

چند ہونٹوں نے اپنے ہنسنے کی خاطر

مسکراہٹ سے شروع اور رُلانے پہ ختم 

اس داستان ظلم کو لوگ محبت کہتے ہیں

کیا خبر تھی کہ ہمیں محبت ہوجائے گا

ہمیں تو بس اُن کا مُسکرانا اچھا لگتا ہے

دل نے جو چاہا وہ کھبی نہیں پایا

جھوٹی مسکراہٹ سے ہم نے غموں کو چھپایا

بتاوں نا ہم لگتے تھے کیسے؟

تمہیں تو یاد ہے نہ ہنسنا ہمارا

اب اور نہیں ہوتا ہم سے یہ دیکھلاوا 

مسکرا مسکراکے  تھک گئے ہیں ہم 

جب بھی دیکھتا ہوں مسکراتے ہوئے لوگ

مجھے اپنی مسکراہٹ بہت یاد آتی ہے

سب جذبوں سے معتبر ہے 

اداس آنکھوں سے مسکرانا

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے 

تنہائی کے لمحوں میں کھبی رو بھی لیا کر

ضبط کرکے ہنسی کو بھول گیا 

میں تو اُس زخم ہی کو بھول گیا 

قہقہہ مارتے ہی دیوانہ 

غمِ زندگی کو بھول گیا

 

جون ایلیاؔ

وہ مجھ سے دور ہو کو خوش ہے تو رہنے دو اُسے 

مجھے چاہت سے زیادہ اُس کی مسکراہٹ پسند ہے

آپ کی مسکراہٹ

تیرے مسکرانے کا اثر صحت پر ہوتا ہے 

لوگ پوچھ لیتے ہیں دوا کا نام کیا ہے

مرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا

خدا گواہ مجھے آج بھی ترا غم ہے

جگی ہوئی مسکانِ محبت نے تیری

میرے تبسم کی نیند خراب کی

اے غم زندگی نہ ہونا ناراض 

مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی

عجب نہیں کہ تیری ہلکی سی مسکراہٹ سے 

میری حیات کا وقفہ طویل ہوجائے

یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو

تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

Muskurahat Sad Poetry in Urdu

تبصرہ کیجئے

Your email address will not be published. Required fields are marked *